جمعرات, مارچ 26, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

ٹی بی کے خلاف جنگ تیز، اوجھا انسٹیٹیوٹ کو عالمی اعزاز ملنے کے قریب

کراچی : ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی وائس...

ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اسکینڈل کا نیا رخ، اسد کھتری پر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات، تحقیقات و کاروائی کا مطالبہ

کراچی : محکمہ صحت سندھ کے سابق سیکشن آفیسر ڈاکٹر اسد کھتری کی بدعنوانی کا سنگین اسکینڈل سامنے آ گیا ہے جس میں اس پر میڈیکل ٹریٹمنٹ کیسز میں مبینہ بے ضابطگیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 27 منظور شدہ کیسز کی ابتدائی جانچ پڑتال میں انکشاف ہوا ہے کہ ان میں سے 18 کیسز “جنرل” کیٹیگری کے تحت آتے تھے، جن کی منظوری قواعد کے مطابق وزیر اعلیٰ یا وزیر صحت کی سطح پر ہونا لازمی تھی لیکن مبینہ رشوت وصولی سے ان کی منظوری دی گئی۔

واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی ہدایات پر مخصوص بجٹ سے سرکاری خرچ پر مریضوں کا علاج نجی اسپتالوں سے کیا جاتا تھا، تاہم اسد کھتری نے مبینہ طور پر رشوت کے عوض ازخود درخواستوں کی وصولی شروع کی اور پھر ان افراد کا علاج سرکاری خرچ پر کراتا رہا۔ اس معاملے میں اس کا مبینہ فرنٹ مین فرحان اسلام پیش پیش رہا۔ ذرائع کے مطابق محض اسد کھتری کے تبادلے سے معاملہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے خلاف باقاعدہ کارروائی ناگزیر ہے، جبکہ اس کے ساتھ فرحان اسلام کا متعلقہ سیکشن سے تبادلہ بھی ضروری قرار دیا جا رہا ہے تاکہ اس مبینہ نظام کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

Screenshot

دستاویزی شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ ان کیسز میں ضابطہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے ممکنہ طور پر غیر مجاز منظوری دی گئی، جس سے نہ صرف مالی بے ضابطگیاں پیدا ہوئیں بلکہ شفافیت پر بھی سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکشن آفیسر (PH-CTO VI) کے چارج پر تعینات اسد کھتری اور ان کے بعض ساتھیوں نے مبینہ طور پر ان منظوریوں پر اثر انداز ہو کر پورے عمل کو مشکوک بنایا۔

یہ بھی پڑھیں : ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں کرپشن کے خلاف بڑا ایکشن، بدنامِ زمانہ سیکشن آفیسر اسد کھتری کا تبادلہ

مزید برآں، اس پیش رفت نے پہلے سے زیر بحث کرپشن کے معاملات کو مزید تقویت دی ہے، جہاں محکمہ صحت میں چند بااثر افسران کے ذریعے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو سرکاری وسائل کے غلط استعمال کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔

باخبر حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری، غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق یہ کیس حکومت سندھ کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے کہ آیا وہ واقعی محکمہ صحت میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بناتی ہے یا نہیں