جمعرات, فروری 5, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کا پہلا اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر، طاقت کے استعمال اور دھمکیوں پر بے نتیجہ ختم

کراچی/اسلام آباد — پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کا تقریباً ایک سال بعد منعقد ہونے والا پہلا افتتاحی اجلاس شدید تنازع، ہٹ دھرمی اور غیر آئینی اقدامات کے باعث کسی بھی فیصلے کے بغیر ختم ہو گیا۔ اجلاس اس وقت بدنظمی کا شکار ہو گیا جب وزارتِ صحت کے سپیشل سیکرٹری نے خود کو وزیرِاعظم پاکستان کی جانب سے کونسل کا صدر نامزد ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم تحریری نوٹیفکیشن یا حکم نامہ پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔

ذرائع کے مطابق کونسل ممبران کی جانب سے قانونی دستاویز طلب کیے جانے پر سپیشل سیکرٹری شدید برہم ہو گئے، جس کے بعد اجلاس کا ماحول کشیدہ ہو گیا اور مبینہ طور پر ممبران کو نوکریوں سے برخاست کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ اس صورتحال پر نرسنگ اور مڈوائفری شعبے سے تعلق رکھنے والے تمام ممبران یکجا ہو گئے اور واضح مؤقف اختیار کیا کہ نرسنگ کے شعبے سے تعلق نہ رکھنے والے فرد کو زبردستی کونسل کا صدر بنانا کسی صورت قبول نہیں۔

تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب سپیشل سیکرٹری وزارتِ صحت کے تقریباً دس افراد اور پولیس اسکواڈ کے ہمراہ کونسل سیکرٹریٹ میں داخل ہوئے۔ دیگر ممبران نے سخت احتجاج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ اجلاس میں صرف سپیشل سیکرٹری اور ڈی جی ہیلتھ ممبر ہیں جبکہ دیگر تمام افراد غیر متعلقہ ہیں اور کونسل کی کارروائی میں ان کی موجودگی غیر قانونی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیشل سیکرٹری نے نرسنگ آرڈیننس کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو زبردستی کونسل کا صدر مقرر کرنے کی کوشش کی، جس پر اجلاس عملاً مفلوج ہو کر رہ گیا۔ اس دوران جوائنٹ سیکرٹری صلاح الدین نے ممبران کو قائل کرنے کی ناکام کوشش کی، تاہم بات نہ بننے پر دونوں افسران کی جانب سے یہ دھمکی دی گئی کہ ’’سینیٹ آف پاکستان سے سپیشل سیکرٹری کو صدر بنوا لیں گے‘‘۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جوائنٹ سیکرٹری صلاح الدین اس سے قبل کم از کم چار مرتبہ خود کو کونسل کا ممبر منتخب کروانے کی کوشش کر چکے ہیں اور مبینہ طور پر حقائق کے برعکس سمری وزیرِاعظم پاکستان کو ارسال کی گئی، جسے وزیرِاعظم ہر بار مسترد کر چکے ہیں۔

نرسنگ حلقوں نے اس صورتحال کو ادارہ جاتی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کونسل کے معاملات میں بیوروکریسی کی مداخلت بند کی جائے، غیر آئینی اقدامات کی تحقیقات کی جائیں اور نرسنگ کمیونٹی کے حقِ نمائندگی کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔