کراچی : کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) نے برطانوی میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کو گمراہ کن، یکطرفہ اور حقائق سے ہٹ کر قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ برطانیہ میں زیرِ بحث انٹرنیشنل ٹریننگ فیلوشپ پروگرام کے تحت کسی بھی پاکستانی ڈاکٹر کو کم یا غیر منصفانہ ادائیگی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
سی پی ایس پی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ جواب میں کہا گیا ہے کہ بی ایم جے کی رپورٹ کا ابتدائی دعویٰ — کہ ڈاکٹروں کو منصفانہ ادائیگی یقینی بنانے میں ناکامی ہوئی — کو غلط طور پر اس تاثر میں تبدیل کر دیا گیا کہ پاکستانی ڈاکٹروں کو کم تنخواہیں دی گئیں، حالانکہ آزاد آڈٹ میں ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہوئی۔
سی پی ایس پی کے مطابق آزاد آڈٹ، جو عالمی آڈٹ فرم کے پی ایم جی نے کیا، میں اگرچہ 17 سفارشات دی گئیں، مگر یہ تمام سفارشات برطانوی اسپتال ٹرسٹ کے گورننس اور انتظامی نظام سے متعلق تھیں، نہ کہ کسی ڈاکٹر کی تنخواہ میں کٹوتی یا مالی استحصال سے۔
کالج نے نشاندہی کی کہ آڈٹ رپورٹ کے ایک نہایت اہم نکتے کو بی ایم جے کی کوریج میں نظر انداز کر دیا گیا، جس میں واضح طور پر درج ہے کہ آڈیٹرز نے کسی بھی انٹرنیشنل ٹریننگ فیلو کا انٹرویو نہیں کیا، انہیں کسی ڈاکٹر کی جانب سے تنخواہ سے متعلق کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی
سی پی ایس پی کا کہنا ہے کہ ان حالات میں ادائیگی کی ’’ناانصافی‘‘ کا نتیجہ اخذ کرنا بنیادی تحقیقی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ کالج نے اس امر پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ بی ایم جے نے رپورٹ شائع کرنے سے قبل سی پی ایس پی سے مؤقف لینے کی زحمت نہیں کی، جس کے باعث ایک غیر متوازن بیانیہ سامنے آیا اور پاکستان کے سب سے بڑے پوسٹ گریجویٹ طبی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔
سی پی ایس پی کے مطابق رپورٹ میں حقائق کے انتخابی استعمال اور اہم پس منظر کو نظر انداز کرنے سے ایسا تاثر پیدا ہوا جو شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ برمنگھم ٹرسٹ سے تعلقات پہلے ہی ختم کیے جا چکے تھے
سی پی ایس پی نے واضح کیا کہ یونیورسٹی ہاسپٹلز برمنگھم این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے ساتھ مخصوص تعاون بی ایم جے رپورٹ سے قبل ہی ختم کیا جا رہا تھا، جب بعض ٹرینیز کی جانب سے تربیت اور غیر مساوی سلوک سے متعلق باضابطہ شکایات موصول ہوئیں۔
کالج کا کہنا ہے کہ پروگرام کا میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ برطانوی ٹرسٹ نے تیار کیا تھا، جبکہ سی پی ایس پی کا نہ تو آزاد آڈٹ کے اجرا میں کوئی کردار تھا اور نہ ہی رپورٹ کی تیاری میں۔ آڈٹ کی تفصیلات تک رسائی بھی کالج کو عوامی سطح پر جاری ہونے کے بعد حاصل ہوئیں۔
بی ایم جے کی رپورٹ کے مطابق 2017 سے 2025 کے دوران برمنگھم ٹرسٹ کے تحت چلنے والے پروگرام میں 700 سے زائد غیر ملکی ڈاکٹر، جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی، ’’انٹرنیشنل ٹریننگ فیلو‘‘ کے طور پر بھرتی کیے گئے۔ آڈٹ میں تنخواہوں کے غیر واضح انتظامات، عوامی فنڈز کی کمزور نگرانی، برطانوی لیبر قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیاں اور ایک نجی کمپنی کے ذریعے ادائیگیوں کے نظام پر سوالات اٹھائے گئے، تاہم یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا کہ ڈاکٹروں کو کم ادائیگی ہوئی۔
سی پی ایس پی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس پورے معاملے پر اپنی تفصیلی داخلی انکوائری کر رہا ہے اور اس ’’گمراہ کن اور نقصان دہ بیانیے‘‘ کے اثرات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ساتھ ہی کالج نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بین الاقوامی تربیتی تعاون صرف اخلاقی، شفاف اور ’برین گین، نہ کہ برین ڈرین‘ کے اصول کے تحت کرے گا، جس میں بیرونِ ملک تربیت کی مدت زیادہ سے زیادہ دو سال تک محدود رکھی جائے گی۔


