جمعرات, فروری 5, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

برطانیہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کا استحصال: متنازع پروگرام بند، سی پی ایس پی سے آٹھ سالہ معاہدہ منسوخ

لندن/کراچی — ہیلتھ ٹائمز خصوصی رپورٹ : برطانیہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے متعارف کرایا گیا ایک متنازع اور طویل عرصے سے سوالات کی زد میں رہنے والا تربیتی پروگرام بالآخر انجام کو پہنچ گیا۔ برطانوی حکام نے نہ صرف اس پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے بلکہ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کے ساتھ آٹھ سال پر محیط معاہدہ بھی منسوخ کر دیا ہے—ایک ایسا فیصلہ جو پاکستانی طبی نظام، عالمی اخلاقیات اور بیرونِ ملک تربیتی معاہدوں پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر گیا ہے۔

یہ انکشاف معروف برطانوی طبی جریدے برٹش میڈیکل جرنل (BMJ) کی ایک تہلکہ خیز تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آیا، جس کے مطابق 2017 سے 2025 کے دوران 700 سے زائد پاکستانی ڈاکٹروں کو ’’انٹرنیشنل ٹریننگ فیلو‘‘ کے عنوان سے برطانیہ لایا گیا، مگر عملی طور پر انہیں این ایچ ایس اسپتالوں میں سستی لیبر کے طور پر استعمال کیا گیا۔

سیکھو اور واپس لوٹو — کے عنوان سے یہ پروگرام ایک نعرہ، ایک فریب ثابت ہوا، یہ پروگرام بظاہر اس تصور پر مبنی تھا کہ پاکستانی ڈاکٹر جدید تربیت حاصل کر کے وطن واپس آ کر ملکی نظامِ صحت کو مضبوط بنائیں گے، مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ رپورٹ کے مطابق یہ اسکیم دراصل برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) میں افرادی قوت کی شدید کمی پوری کرنے کا ذریعہ بن گئی، جبکہ پاکستان خود ڈاکٹرز کی قلت سے دوچار ہوتا چلا گیا۔

ایک آزاد آڈٹ، جو عالمی آڈٹ فرم کے پی ایم جی (KPMG) نے کیا، میں انکشاف ہوا کہ برمنگھم ٹرسٹ نے آٹھ برسوں کے دوران ایک نجی کمپنی کو 40.5 ملین پاؤنڈ (14.5 ارب روپے سے زائد) ادا کیے، مگر کوئی باضابطہ معاہدہ موجود نہ تھا، ادائیگیوں کی شفاف تفصیلات دستیاب نہ تھیں، یہ واضح نہ ہو سکا کہ اصل میں کتنی رقم پاکستانی ڈاکٹروں تک پہنچی، ہر ڈاکٹر کے لیے ماہانہ 3,960 پاؤنڈ مختص تھے، مگر آڈٹ نے تصدیق کی کہ تنخواہوں کا نظام مبہم اور غیر شفاف رہا۔

آزاد آڈٹ میں گورننس کی 17 بڑی ناکامیوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں برطانوی لیبر قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیاں، انکم ٹیکس کی عدم کٹوتی، نامکمل سیکیورٹی کلیئرنس، تربیت کے نام پر ادا کی گئی رقوم کی نگرانی میں ناکامی شامل ہے۔ سب سے تشویشناک انکشاف یہ تھا کہ فل ٹائم کام کرنے والے پاکستانی ڈاکٹروں کو ملازم کے بجائے طالب علم ظاہر کیا گیا، جس کے باعث انہیں بیماری، زچگی کی چھٹی اور ملازمت کے تحفظ جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ رپورٹ میں ایک خاتون ڈاکٹر کا واقعہ بھی سامنے آیا، جنہیں حاملہ ہونے پر ملازمت سے نکال دیا گیا۔

پاکستان پہلے ہی عالمی ادارۂ صحت کی ہیلتھ ورک فورس ریڈ لسٹ میں شامل ہے، اس کے باوجود آڈٹ میں انکشاف ہوا کہ پروگرام مکمل کرنے والے 68 فیصد ڈاکٹر مستقل طور پر برطانیہ میں ہی رک گئے۔ یوں ’’واپس لوٹنے‘‘ کا وعدہ محض ایک نعرہ ثابت ہوا۔

اس پورے پروگرام میں سی پی ایس پی کا کردار مرکزی رہا، جس کے ذریعے بڑی تعداد میں پاکستانی ڈاکٹروں کو برمنگھم بھیجا گیا۔ آڈٹ کے بعد یونیورسٹی ہاسپٹلز برمنگھم این ایچ ایس ٹرسٹ نے سی پی ایس پی سے تمام تعلقات منقطع کر دیے ہیں اور انگلینڈ میں ایک اور قومی سطح کے بیرونِ ملک تربیتی پروگرام سے بھی دستبرداری اختیار کر لی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ برطانوی عملے کے پاکستان میں بھرتی دوروں پر 2017 کے بعد ایک لاکھ 22 ہزار پاؤنڈ سے زائد خرچ کیے گئے، مگر انہیں مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق قوانین کے تحت ظاہر نہیں کیا گیا۔

یونیورسٹی ہاسپٹلز برمنگھم کی چیف میڈیکل آفیسر کیرن پٹیل نے انتظامی خامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ کے عملے کی جانب سے فراڈ کے شواہد نہیں ملے۔ ان کے مطابق برمنگھم میں موجود باقی 101 پاکستانی ڈاکٹروں کو اب مقامی ڈاکٹروں کے برابر این ایچ ایس معاہدے پیش کر دیے گئے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف برطانیہ بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک ویک اپ کال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کو بین الاقوامی طبی تربیتی معاہدوں کا ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا، تاکہ مستقبل میں ڈاکٹروں کے استحصال، قومی وسائل کے ضیاع اور ملکی صحت کے نظام کو پہنچنے والے ناقابلِ تلافی نقصان سے بچا جا سکے۔