پیر, مارچ 23, 2026

متعلقہ خبریں

یہ بھی دیکھیں

عباسی شہید اسپتال میں رشوت کا اسکینڈل: اپ گریڈیشن اور پروموشن کے نام پر ملازمین کو دھوکہ، انتظامیہ پر شدید سوالات

کراچی : عباسی شہید اسپتال میں اپ گریڈیشن اور پروموشن کے نام پر مبینہ طور پر لاکھوں روپے رشوت لینے کا انکشاف ملازمین کے لیے تشویش اور اضطراب کا باعث بن گیا ہے۔ اسپتال کے عملے کا کہنا ہے کہ یہ اسکینڈل نہ صرف انفرادی نقصان کا سبب بن رہا ہے بلکہ ادارے کی شفافیت اور انتظامی عمل پر بھی سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق متعدد ملازمین نے اپنی ترقی اور عہدوں کی اپ گریڈیشن کے لیے سید اظہر (پی ایس ٹو سینئر ڈائریکٹر) اور دانش کو بھاری رقوم ادا کیں۔ یہ رقوم مبینہ طور پر سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر مہیوش متھانی کی ہدایات پر وصول کی گئی تھیں۔ اب تک تقریباً 46 لاکھ روپے کی رقم ایڈوانس کے طور پر لی جا چکی ہے۔

متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اپنی رقم واپس طلب کی تو انہیں بتایا گیا کہ ان کے کیسز “پروسیس” میں ہیں اور رقم فوری طور پر واپس نہیں کی جائے گی۔ کئی دنوں کی مسلسل پیروی کے باوجود اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی، جس کے باعث عملے میں شدید اضطراب اور بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔

اس معاملے میں اسٹاف نرس مسز شمیم سحر، سی این ایس (ASH) مسز شگفتہ سلیم اور دیگر اہم گواہان نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یہ افراد میئر کراچی کو ادائیگیوں کے ویڈیو ثبوت فراہم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، تاکہ تحقیقات کو شفاف بنایا جا سکے اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں ایسے اقدامات نہ صرف ملازمین کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں بلکہ مریضوں کی خدمات پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ معاملہ محکمہ صحت کی نگرانی اور انتظامی احتساب کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

اسکینڈل کے بعد اسپتال کے اندر اور باہر عملے کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری تحقیقات کی جائیں اور تمام متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔