کراچی : محکمہ صحت سندھ نے ڈاکٹروں کی ایچ آر ایم آئی ایس پورٹل پر رجسٹریشن میں ناقص کارکردگی اور حکومتی ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعدد ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران، میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، ڈائریکٹرز اور ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کو شوکاز نما مراسلے جاری کر دیے ہیں۔ حکومت سندھ کے محکمہ صحت کی جانب سے 22 مئی 2026 کو جاری کیے گئے خفیہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بار بار ہدایات کے باوجود کئی اضلاع اور اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی لازمی رجسٹریشن کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے جس پر وزیر صحت نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ مراسلے کے مطابق پورٹل کا مقصد صحت کے انتظامی نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا اور تمام آپریشنل ڈیٹا کو ایک پلیٹ فارم پر منتقل کرنا ہے، تاہم اداروں کی عدم دلچسپی کے باعث یہ عمل متاثر ہو رہا ہے۔

محکمہ صحت کی جاری کردہ فہرست کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نوشہروفیروز 25 فیصد رجسٹریشن کے ساتھ سرفہرست جبکہ ڈی ایچ او ملیر کراچی 24 فیصد، لاڑکانہ 22 فیصد، میرپورخاص 19 فیصد، قمبر شہدادکوٹ 18 فیصد، سجاول 17 فیصد، خیرپور 15 فیصد، ٹھٹھہ 12 فیصد، ٹنڈو محمد خان 11 فیصد اور کشمور صرف 5 فیصد رجسٹریشن مکمل کر سکا۔ اسی طرح بڑے تدریسی و سرکاری اسپتالوں میں لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد/جامشورو 25 فیصد، چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال لاڑکانہ 23 فیصد، لیاری جنرل اسپتال کراچی 14 فیصد، ڈاکٹر رتھ کے ایم فاؤ سول اسپتال کراچی 10 فیصد، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی 4 فیصد جبکہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کراچی صرف ایک فیصد رجسٹریشن مکمل کر سکا ہے۔
مراسلے میں تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی ناقص کارکردگی اور حکومتی احکامات پر عمل نہ کرنے کی وجوہات تحریری طور پر 25 مئی 2026 تک محکمہ صحت کو فراہم کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف قواعد کے تحت سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ محکمہ صحت نے اس معاملے کو “انتہائی اہم اور فوری نوعیت” کا قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو مقررہ وقت میں جواب جمع کرانے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔

