کراچی : کراچی کے بڑے سرکاری طبی ادارے عباسی شہید اسپتال میں مبینہ رشوت طلبی کا سنگین معاملہ سامنے آ گیا، جہاں رہائشی ٹرینی ڈاکٹر سے تجربہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے عوض مبینہ طور پر 50 ہزار روپے طلب کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ٹرینی ڈاکٹر حذیفہ نذیر نے اسپتال کے ایڈیشنل ڈائریکٹر اکاؤنٹس فرید الدین پر الزام عائد کیا ہے کہ اکاؤنٹ کلیئرنس کے نام پر غیر قانونی رقم مانگی جا رہی ہے، جبکہ تمام سرکاری تقاضے پہلے ہی مکمل کیے جا چکے ہیں۔

ڈاکٹر حذیفہ نذیر کے مطابق انہوں نے جولائی 2023 سے 4 اگست 2025 تک اپنی دو سالہ رہائش مکمل کی اور تجربہ سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے مقررہ طریقہ کار کے تحت درخواست جمع کروانے کے ساتھ 2500 روپے کا سرکاری چالان بھی حبیب بینک میں جمع کرا دیا، تاہم اس کے باوجود ان سے مبینہ طور پر 50 ہزار روپے رشوت طلب کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے چھ ماہ تک بغیر تنخواہ فرائض انجام دیے، بعد ازاں جزوی ادائیگیاں ہوئیں جبکہ اگست 2024 سے باقاعدہ تنخواہ ملنا شروع ہوئی، اس تمام صورتحال کے باوجود مزید مالی دباؤ ڈالنا نہ صرف غیر قانونی بلکہ افسوسناک عمل ہے۔
متاثرہ ڈاکٹر نے الزام عائد کیا کہ اکاؤنٹس سیکشن کے بعض افسران اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں اور نوجوان ڈاکٹروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، میئر کراچی، وزیر صحت سندھ، سیکریٹری صحت اور اینٹی کرپشن حکام سے فوری نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کرانے اور ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

